ملک پاکستان کے موجودہ حالات اور اسکی بہتری کیسے ممکن ہے ؟؟
اس وقت جو پاکستان کے حالات ہیں اس میں غریب بندہ بس اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہے اور آرزو کر رہا ہے کہ ایسی زندگی سے موت اچھی ہے اور یہ خواہش وہ کیوں نا کرے وہ بیچارہ تین وقت کا کھانا نہیں کھا پا رہا پہننے کو کپڑے نہیں لے پا رہا بچے بیمار ہیں ادویات کے پیسے نہیں ہیں، بچوں کے چہرے کی مسکراہٹ نہیں بن پا رہا ، اسکا ذمہ دار کون ہے ؟ اسکا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ حکمران ہیں، یہ حکومتی حکمرانوں کا کام ہے کہ ریاست اور ریاستی عوام کا خیال رکھیں انکو خوشحال رکھیں، انکا سہارا بنیں، انکو روزگا دیں، لیکن یہاں حکمران اقتدار کی حوس میں انتقامی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں، اقتدار نے ایسا نشہ دیا ہے کہ اب پاکستان اتنا تیزی سے زوال کی جانب گیا ہے ٹھیک ویسے ہی جیسے پانی اونچائی سے زمین کی طرف آتا ہے،
ملک پاکستان کو اگر بچانہ ہے تو ملک کے اندر اسلامی نفاذ متعارف کروانا ہوگا اسلام کا قانون مکمل ہے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہے، اسلامی قانون تو بنا بنایا ہے اسلام اور احادیث میں، اب بس انتظامیہ کے ذریعے اسکو متعارف کروانا ہے انصاف اسلامی قانون سے زیادہ کسی قانون میں نہیں ہو سکتا جس ملک میں عدل و انصاف نہیں وہ ملک ہمیشہ تباہی کا شکار ہوتا ہے اور اس وقت پاکستان کا یہی حال ہے، جب تک اقتدار میں کوئی ایسا لیڈر نہیں آ جاتا جو کہ اسلامی نفاذ کی ٹرپ رکھتا ہو تب تک اسلامی نفاذ صرف باتوں تک ہی رہ جائے گا، اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ مزہبی جماعت آگے آئے مقصد صرف یہ ہے کہ اللہ والا ہو۔۔۔۔
اس وقت ملکی معیشت بہت کمزور ہو گئی ہے جب ہماری ملکی معیشت مضبوط ہو گئی تب ہم اپنے فیصلے خود لیں گے کسی دوسرے ملک کے پیروکار نہیں ہونگے،
ملک خوشحال کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ آئین کی بالادستی ہو قانون سے اوپر کچھ نہ ہو اور قانون سب کے لیے برابر ہو، قانون ایک ہی ہو اندھا قانون نہیں بلکہ دو آنکھوں والا قانون ہو،
اسکے علاوہ جتنے بھی ریاستی ادارے ہیں انکے اختیارات کی جو باؤنڈری آئین کے مطابق ہے اسکو کوئی تجاوز نہ کرے کیونکہ آئین سب کے لیے برابر ہے۔۔۔۔
(جرنلسٹ و کالم نگار عثمان اسماعیل)

0 Comments