اداکارہ مومنہ اقبال ہراساں کیس کی مکمل کہانی اور حقائق کھل کر سامنے آگئے

 


  اداکارہ مومنہ اقبال ہراساں کیس کی مکمل کہانی اور حقائق کھل کر سامنےآگئے


پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے (MPA) ثاقب چادھر کے خلاف دائر کردہ ہراسگی کے کیس کی مکمل تفصیلات اور اب تک ہونے والی پیشرفت درج ذیل ہے:

کیس کا پس منظر اور اصل معاملہ کیا ہے؟

مومنہ اقبال نے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے ممبر ثاقب چادھر پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

  • شکایت کا اندراج: اداکارہ نے اس معاملے پر NCCIA (نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی / ایف آئی اے) میں باقاعدہ ہراسگی کی شکایت درج کروائی۔

  • اداکارہ کا موقف: مومنہ اقبال اور ان کے وکیل کے مطابق انہیں ہراساں کیا جا رہا تھا اور دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی تھی، جس کے بعد انہوں نے خاموش رہنے کے بجائے قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے اس حوالے سے ثبوت بھی ایجنسی کے سامنے پیش کیے ہیں۔

اب تک کی اہم پیشرفت (مئی 2026)

تحقیقات میں تیزی آ چکی ہے اور پچھلے چند دنوں کے دوران اس کیس میں درج ذیل اہم موڑ سامنے آئے ہیں:

  • عدالت اور ایجنسی میں پیشی: دو دن پہلے (22 مئی 2026) کو اداکارہ مومنہ اقبال اور ایم پی اے ثاقب چادھر دونوں لاہور میں تفتیش اور عدالتی کارروائی کے سلسلے میں پیش ہوئے، جہاں دونوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

  • موبائل فون جمع کروانے کا حکم: تفتیش کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کو اپنا موبائل فون تفتیشی افسران کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ڈیٹا اور پیغامات کی فرانزک جانچ کی جا سکے۔

  • وزیر اعلیٰ مریم نواز کا ردعمل: پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بھی اس ہراسگی کیس کا نوٹس لیا ہے اور قانون کے مطابق شفاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

  • تفتیش کے مختلف زاویے: میڈیا رپورٹس اور این سی سی آئی اے (NCCIA) کے مطابق، تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ خالصتاً ہراسگی کا معاملہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی ذاتی تنازع یا دیگر وجوہات شامل ہیں۔

کیس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور دونوں اطراف سے بیانات اور ڈیجیٹل ثبوتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 


 


Post a Comment

0 Comments