*مزدوروں کا عالمی دن*
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ مزدوروں کا عالمی دن منانے کا مقصد مزدوروں کے حق کے لیے آواز بلند کرتا ہے۔ یکم مئی دنیا بھر میں مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جس کی ابتداء شکاگو کے شہیدوں کو سرخ سلام سے ہوتی ہے۔ امریکہ کے شہر شکا گوہی وہ شہر ہے جہاں سے اس تحریک کا آغاز ہوا تھا اور بے شمار مزدوروں کا خون بہا تھا۔ یکم مئی کا دن ایک تہوار اور تقریب کی طرح منایا جاتا ہے۔ ہر سال یکم مئی یعنی مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور یہ دن اپنے ہوالات لاتا ہے اور بغیر جواب کے یہ دن گزر جاتا ہے۔
*اس شہر میں مزدور جیسا کوئی در بدر نہیں*
*جس نے سب کے گھر بنائے اس کا کوئی گھر نہیں*
طے پایا گیا تھا کہ مزدوری کے اوقات کارآٹھ گھنٹے ہوں گے لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کی اکثریت تعداد کا حق مارا جارہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ جسمانی محنت مزدور کرتا ہے اور اس کے باوجود سب سے کم معاوضہ بھی انہی کو ملتا ہے۔ 2010ء کی لیبر پالیسی کے تحت ایک عام مزدور کی ماہانہ آمدن سات ہزار روپے مقرر کی گئی تھی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں ایک مزدور اتنی کم آمدنی میں اپنے بیوی بچوں کو کیسے پالتا ہے؟ مہنگائی کی رفتار اس قدر تیزی سے بڑھ رہی
ہے کہ متوسط اور متمول طبقات کے لیے بھی مہینے بھر کے اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں رہا۔ کئی ایسے مزدور بھی ہیں جو یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور ان کے حالات عام مزدوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ انہیں کبھی کام ملتا ہے اور کبھی پورا دن انتظار کے بعد خالی ہاتھ اپنے گھر واپس لوٹنا پڑ تا ہے۔ مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر کئی تقاریب ، ریلیاں، جلسے جلوس اور تقاریر منعقد کی جاتی ہیں ۔ اس موقع پر حکومت کے اعلیٰ افسران اور عہد یداران بھی شرکت کرتے ہیں۔ ان اجلاسوں اور تقاریب میں مزدورں کے نام سے وعدے کیے جاتے ہیں جو آج تک پورے نہیں ہو سکے۔ تقریباً ہر سال بجٹ لیسی تشکیل دی جاتی ہے جس پر عملدرآمد نہیں ہوتا اور تمام کے تمام وعدے
یونہی ہوا میں اُڑ جاتے ہیں ۔
پاکستان میں بھٹہ مزدور تو آپ کے سامنے کی بات ہی ہے، کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور، فیکٹریوں میں کام کرنے والے بچے اور سلائی کڑھائی کرنے والی خواتین اس بات کا ثبوت ہیں کہ جس طرح سے ان کا استحصال ہورہا ہے۔ حکومت پاکستان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مزدوروں کے حقوق کے لیے خاطر خواہ اقدامات اٹھائیں گے تا کہ وہ بھی اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی اچھے طریقے سے گزر بسر کر سکیں گے۔ اہتمام تحریر (محمد عثمان اسماعیل جرنلسٹ و کالم نگار صادق آباد ۔

0 Comments